فرانس اور نیدرلینڈ میں بھی نسلی امتیازات کے خلاف زبردست احتجاج
فرانس اور نیدرلینڈ میں بھی نسلی امتیازات کے خلاف زبردست احتجاج
"بلیک لائیوس میٹر" کے نعرے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لوگ دنیا بھر کے شہروں میں جلوس نکال رہے ہیں۔ وہ اپنے ہی ممالک میں نسلی ناانصافی کے معاملات پر بھی توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔ فرانس میں بھی وہی ظلم ہے۔
پیرس میں ہزاروں افراد 24 سالہ فرانسیسی شخص اڈاما ٹورور کی پولیس تحویل میں ہونے والی موت کو یاد کرنے کے لئے جمع ہوگئے ۔ اڈاما ٹورور کی بہن آسا ٹورور نے کہا کہ آج امریکہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے فرانس میں کیا ہو رہا ہے اس کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمیں نسل پرستی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو فرانس میں ہورہا ہے۔
حکام نے کسی طرح کے اجتماع پر سماجی بے ترتیبی اور صحت کے خطرات کے پیش نظر انتباہ دیتے ہوئے پابندی عائد کردی تھی۔ پولیس نے احتجاج کو توڑنے کے لئے آنسو گیس کے گولے فائر کیے ۔
ایمسٹرڈیم میں ہزاروں افراد نے "میں سانس نہیں لے سکتا" کے نعرے لگائے۔ ایک احتجاجی شخص کونٹا رنچو نے کہا : ہم یکجہتی میں ساتھ کھڑے ہوئے ہیں دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ نیدرلینڈ میں بھی ہم اسے قبول نہیں کرتے ، ہم اسے برداشت نہیں کرتے اور ہم تبدیلی چاہتے ہیں۔
دنیا بھر کے شہروں میں امریکی سفارت خانوں کے باہر بھی مظاہروں کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کی مقامی وجوہات عالمی "بلیک لائیوس میٹر" تحریک سے منسلک ہیں۔
#AljazeeraUrdu
Comments
Post a Comment